6 جون 2012 - 19:30

محمد المرسی کے مختصر حالات زندگی/ ایران کے روزنامے "جوان امروز" نے محمد المرسی کے ساتھ ایک مکالمہ ترتیب دیا اور انھوں نے کہا: ہم ایران کے ساتھ خاص قسم کے سیاسی اور تزویری تعلقات کے خواہاں ہيں۔ ہم ایران اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار کریں گے / میں ذاتی طور پر کبھی بھی اسرائیلی حکام سے ملاقات نہیں کروں گا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق محمد المرسی نے جوان امروز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: میرے صدر بننے کے بعد تمام جماعتوں کو ریلیوں اور جلسے جلوس کی اجازت ہوگی بشرطیکہ دوسرے شہریوں کے حقوق کو پامال نہ کریں۔ ملک کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے والے پولیس اور فوج کر اہلکاروں کے حقوق ضائع نہیں ہونگے اور صرف کمانڈرز اور وہ لوگ جو براہ راست طور پر مصری عوام کے حقوق پامال کرنے میں ملوث رہے ہیں عدالتی کاروائی کا نشانہ بنیں گے۔

محمد المرسی کے مختصر حالات زندگی

محمد محمد المرسی عیسی العیاط 5 اگست 1951 کو مصر کے صوبہ الشرقیہ کے ایک گاؤں "العدوہ" کے ایک غریب کاشتکار کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ وہ شادی شدہ اور پانچ بچوں کے باپ ہیں اور ان کے تین پوتے اور نواسے بھی ہیں۔

جامعہ قاہرہ سے میٹلز انجنئرنگ میں پوسٹ گریجویشن کے بعد 1982 میں جنوبی کیلیفورنیا کی یونیوسٹی سے خلائی جہاز کے انجنوں کے حفاظت کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور 1982 سے 1985 تک نارٹریج میں کیلفورنیا کی اسٹیٹ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر رہے اور 1985 میں ہی مصر کی الزقازیق یونیورسٹی کے پروفیسر اور انجنئرنگ ڈپارٹمنٹ میں مواد شناسی (Materials Science) کے سب ڈپارٹمنٹ کے سربراہ مقرر ہوئے۔

وہ صوبہ الشرقیہ میں صہیونیت کے مقابلے میں مزاحمت کمیٹی، سیاسی جماعتوں و کارکنوں کی بین الاقوامی کانفرنس لیبر یونین کے رکن منتخب ہوئے۔ نیز محمد المرسی صہیونیت کے خلاف مصری مزاحمت کمیٹی کے بانی بھی ہیں۔ المرسی 1992 سے جماعت اخوان المسلمین کی سیاسی سرکل میں سرگرم عمل ہوئے اور 2006 میں مبارک آمریت کے ہاتھوں اسیر ہوئے اور کچھ عرصہ بعد اپنے گھر میں نظربند ہوئے۔

مصر کے یہ سیاستدان 2011 ميں حکومت کے خلاف عوامی انقلاب کے آغاز کے بعد کچھ دنوں تک جیل میں رہے۔ 11 فروری 2011 کو انقلاب مصر کامیابی سے ہمکنار ہوا تو 30 اپریل 2011 کو محمد المرسی نے تازہ تشکیل پانے والی سیاسی جماعت عدل و حریت کی قیادت سنبھالی۔

وہ اس وقت جماعت اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ "حزب العدالة والحرية" کے بانی، قائد اور سربراہ سمجھے جاتے ہیں۔

یہ جماعت اخوان المسلمین نے مبارک ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے کے بعد بنائی اور اس نے پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور جب صدارتی انتخابات کے لئے اخوان المسلمین کے نامزد امیدوار کی اہلیت رد ہوئی تو اخوان المسلمین نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ 2012 کے صدارتی انتخابات میں محمد المرسی اس جماعت کے اصلی امیدوار ہیں اور محمد المرسی مصر کے قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے خیرت الشاطر کے اعلان کردہ پروگرام کے پابند ہونگے۔

یاد رہے کہ محمد المرسی اس سے قبل اخوان المسلمین کے "مکتب الارشاد" (یا تبلیغی مرکز) کے رکن تھے اور سنہ دو ہزار میں پارلیمانی انتخابات کے لئے اخوان المسلمین کے نامزد امیدوار تھے اور پارلیمان میں 2005 تک اخوان دھڑے کے سربراہ اور ترجمان رہے۔ انھوں نے 2004 میں عزیز صدقی کے ہمراہ "قومی محاذ برائے تبدیلی" کی بنیاد رکھی۔

صدارتی انتخابات کی اعلی کمیٹی کے اعلان کے مطابق انتخابات کے پہلے مرحلے میں محمد المرسی ستاون لاکھ پینسٹھ ہزار ووٹ حاصل کرکے اول رہے جبکہ مبارک دور کے وزیر اعظم اور امریکہ و اسرائیل کے حمایت یافتہ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) احمد شفیق فوج اور حکومتی اداروں نیز بعض سعود عرب سمیت بعض عرب ممالک کی کوششوں سے دوسرے نمبر پر رہے اور انھوں نے 550505 ووٹ حاصل کئے۔ کہا جاتا ہے کہ احمد شفیق کو دھاندلی کے ذریعے ووٹ دلوائے گئے ہیں۔

سعودی حکمران مصر میں اسلام پسندوں کی کامیابی برداشت نہیں کرسکتے: لنک دیکھئے:

سعودی الفیصل: مصر میں اسلام پسندوں کو برسراقتدار نہ آنے دیا جائے

ایران کے روزنامے "جوان امروز" نے محمد المرسی کے ساتھ ایک مکالمہ ترتیب دیا اور انھوں نے کہا: ہم ایران کے ساتھ خاص قسم کے سیاسی اور تزویری تعلقات کے خواہاں ہيں۔ ہم ایران اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار کریں گے۔

مکالمے کا مکمل متن درج ذیل ہے:

سوال: آپ کے مخالفین اور احمد شفیق کے حامی کہتے ہیں کہ آپ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ایران کے نامزد امیدوار ہيں؛ آپ کا اپنا کیا خیال ہے؟

جواب: ایران اور مصر کے تعلقات معزول صدر حسنی مبارک کی تیس سالہ آمریت کے دوران بحرانوں اور متعدد مشکلات کا شکار رہے لیکن میری رائے یہ ہے کہ ایران اور دوسرے اسلامی ممالک کے ساتھ  تعلقات ـ بالخصوص سفارتی اور تزویری (اسٹراٹجک) تعلقات ـ پوری قوت کے ساتھ بحال ہونا ضروری ہیں۔

میرا خیال ہے کہ مبارک دور میں مصر کی خارجہ پالیسی ابہام آمیز اور غیر یقینی صورت حال سے دوچار تھی اور اس کا ہدف و مقصد صہیونی ریاست اور امریکہ کے مفادات کا تحفظ تھا اسی لئے میری تاکید ہے کہ انقلابی مصر کے خارجہ تعلقات اور خارجہ پالیسی میں مکمل طور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

میں علاقے کی موجودہ حساس صورت حال کے پیش نظر، سمجھتا ہوں کہ امریکہ، برطانیہ اور صہیونی ریاست کی طرف سے ایران اور شام پر حملہ بعید از قیاس ہے اور میری تاکید اس بات پر ہے کہ ایران ایک طاقتور ملک ہے جو امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے ان اقدامات کے مد مقابل بے بس نہیں ہے اور اس کے ہاتھ بندھے ہوئے نہيں ہیں اور یہی بات اس بات کا سبب بنتی ہے کہ مغرب اس طرح کے کسی اقدام سے قبل کئی بار تأمل کرے گا اور سوچے گا۔

سوال: صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی کی صورت میں آپ کے ترجیحی منصوبے کیا ہونگے؟

جواب: ایسا بھی نہيں ہے کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں صدر ہی فیصلہ ساز ہو اور باقی لوگ خاموش بیٹھے رہیں۔ اگر میں انتخابات میں کامیاب ہوا تو مصر کے تمام گروپوں، دھڑوں اور جماعتوں پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دوں گا اور یہ بورڈ ملکی انتظامات چلانے اور ملک کے اہم مسائل میں فیصلےکرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ اس بورڈ کے اراکین اخوان المسلمین کے اراکین نہيں ہونگے بلکہ اس بورڈ میں میرے معاونین اور مشیران کردار ادا کریں گے جو مصر کی دوسری جماعتوں اور دھڑوں سے ہونگے۔

جماعت اخوان المسلمین ایک انقلابی منصوبہ دے گی جو اسلام اور شریعت پر مبنی ہوگا اور اس منصوبے میں تعلیم و تربیت، صحت، صنعت اور زراعت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ میرے خیال میں یہ ضروری نہيں ہے کہ صدر کی طرف سے مقرر ہونے والا وزیر اعظم حزب عدل و حریت ہی کا رکن ہو بلکہ دوسری جماعتوں، دھڑوں اور گروپوں کے اراکین بھی ـ جو یہ ذمہ داری نبھانے کے اہل ہونگے ـ اس منصب کو سنبھال سکتے ہیں۔ اگر میں صدر منتخب ہوجاؤں تو دوسری جماعتوں کے ساتھ مشورہ کرکے اور ان کے ساتھ مفاہمت کے بعد ـ ملکی آئین کی اصلاح کے لئے تشکیل شدہ ـ "مؤسسین فورم" کے ڈھانچے پر نظر ثانی کی جائے گی۔ مصر کے آئین میں اصلاح ہونی چاہئے اور نیا آئین جلد از جلد تیار ہونا چاہئے۔

میرے صدر بننے کے بعد تمام جماعتوں کو ریلیوں اور جلسے جلوس کی اجازت ہوگی بشرطیکہ دوسرے شہریوں کے حقوق کو پامال نہ کریں۔ ملک کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے والے پولیس اور فوج کر اہلکاروں کے حقوق ضائع نہیں ہونگے اور صرف کمانڈرز اور وہ لوگ جو براہ راست طور پر مصری عوام کے حقوق پامال کرنے میں ملوث رہے ہیں عدالتی کاروائی کا نشانہ بنیں گے۔

سوال: آپ کی رائے کے مطابق کیا انتخابات کے دوسرے اور فیصلہ کن مرحلے میں دھاندلی نہیں ہوگی؟

جواب: چونکہ موثق ذرائع کے مطابق مبارک آمریت کے دور میں ساٹھ ا